پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت، وزیر اعظم کا سخت نوٹس
وزیر اعظم عمران خان- فائل فوٹوملک کے مختلف حصوں میں پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کی رپورٹس پر وزیرِ اعظم نے سخت نوٹس لے لیا۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ مصنوعی قلت کا سبب بننے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔
ملک کے مختلف حصوں میں پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کی رپورٹس پر وزیرِ اعظم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے آئندہ 48گھنٹوں میں پٹرول کی سپلائی کو یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔
کابینہ ارکان نے کہا کہ اوگرا اور وزارتِ پٹرولیم کے پاس کسی بھی پٹرولیم کمپنی کی اسٹوریج کے مقام میں داخل ہونے اور معائنہ کرنے کا مکمل قانون اختیار ہے۔
کابینہ نے ہدایت کی کہ پٹرولیم ڈویژن، اوگرا،ایف آئی اے اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو پٹرولیم کمپنیوں کے ڈپوکا معائنہ کریں اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے جس میں گرفتاریاں اور ذخیرہ کی جانے والی مقدار کی جبری ریلیز شامل ہو گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں جو اپنے لائسنس کی شرائط کے مطابق مقررہ کردہ اسٹاک رکھنے میں ناکام رہے ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے جس میں لائسنس کینسل کیا جانا اور بھاری جرمانہ شامل ہے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ وزارت پٹرولیم اور اوگرا آئندہ 48سے 72گھنٹوں میں پٹرول کی ریگولر سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں۔
وزارت توانائی کی جانب سے کابینہ کو بتایا گیا کہ جون 2019میں کل سپلائی 650000میٹرک ٹن تھی جبکہ اس سال جون کے لئے 850000میٹرک ٹن کا انتظام کیا گیا ہے۔
کابینہ نے عوام سے اپیل کی کہ اضطراب کا شکار نہ ہوں۔ ذخیرہ اندوزوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ا سٹاک کی مارکیٹ میں فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔
وزیرِ اعظم نے وزارتِ پٹرولیم اور اوگرا کو ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنے لائسنس کی شروئط کے مطابق 21دن کا اسٹاک رکھیں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔